coinpayu

Tuesday, April 28, 2020

ماہ رمضان میں تھانہ سنانواں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے دو منشیات فروش دھر لئے ملزمان کے قبضہ سے بھاری مقدارمیں چرس برآمد

ڈی پی او مظفرگڑھ ندیم عباس کی ہدایت پر  ایس ایچ او سنانواں منیراحمد چانڈیہ  کی جانب سے  منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے کاروائی  دو منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے دو کلو سے زائد مقدار میں منشیات  برآمد  کرلی گئی ہے 



ایس ایچ او سنانواں منیراحمد چانڈیہ  کی  جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے کاروائی کے دوران دو منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں منشیات  برآمد کرلی گئی ہے ڈی پی او ندیم عباس کی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ سنانواں منیراحمد چانڈیہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ مختلف علاقوں میں کارروائی کی ہے   دو بدنام زمانہ منشیات فروشوں  عبدالشکور اور محمد عمران کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور  
ملزمان کے قبضہ سے  علاقوں سے 2 کلو 720 گرام چرس  برآمد کر لی گئی ہے ایس ایچ او سنانواں کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں جاری رہینگی

کیا فیس بک سے پیسے کمائے جاسکتے ہیں کتنا سچ کتنا جھوٹ تحریر لازمی پڑھیں

                                                                                             فیس بک سے پیسے کمانا

آج کل سوشل نیٹ ورک اور خاص طور پر فیس بک سے پیسے کمانے کا کاروبار زوروشور سے چل رہا ہے بلکہ فیس بک تو اس وقت سونے کی چڑیا ہے۔ میرے خیال میں سوشل نیٹ ورک سے پیسے کمانا تب ہی ٹھیک ہو گا جب اس میں کوئی دھوکہ دہی نہ ہو اور سوشل نیٹورک کے قوانین کے مطابق کام کیا جائے۔ اس طریقے میں دراصل لوگ فیس بک پر اپنا پیج، گروپ یا پروفائل بناتے ہیں۔ پھر اس کی خوب تشہیر کرتے ہیں۔ جب حلقہ احباب کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے تو پھر مختلف ویب سائیٹ اپنے لنک کی تشہیر کا انہیں کہتی ہیں۔ لوگ اپنے فیس بک پیج، گروپ یا پروفائل پر لنک شیئر کرتے ہیں اور بدلے میں اس ویب سائیٹ سے پیسے لیتے ہیں۔ یہ سودا حلقہ احباب کے دائرے، لائیکس یا جتنی ٹریفک شیئر کردہ لنک سے ویب سائیٹ کو ملے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور تو اور لوگ اپنے فیس بک پیج کے لائیکس بڑھانے کے لئے بھی دوسرے پیجز والوں کو پیسے دیتے ہیں۔ آج کل سیاست دان اس دوڑ میں بڑے شامل ہیں۔ مزید کئی لوگ کسی ”جرنل سے نام“ کا فیس بک پیج بناتے ہیں۔ اِدھر اُدھر کی ہر چیز شیئر کرتے رہتے ہیں۔ دن بدن لائیکس کی تعداد زیادہ ہوتی جاتی ہے اور جب لائیک کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو وہ پیج کسی کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خریدنے والے کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خریدنے والا اس پیج پر اپنی ویب سائیٹ کا لنک شیئر کر کے اپنی ویب سائیٹ کی ٹریفک بڑھاتا ہے یا پھر وہ بھی دیگر ویب سائیٹس والوں کو ٹریفک فروخت کرتا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ جو پیج پر پیج بن رہے ہیں اور لوگ ہر اوٹ پٹانگ شیئر کر رہے ہیں، یہ سب ایسے ہی ہو رہا ہے؟ دھندا ہے بھائی جی دھندہ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پیج کا نام کچھ اور ہوتا ہے اور اس پر شیئر ہونے والا مواد کچھ اور۔ دراصل پیسے کمانے کے کے لئے مذہب سے لے کر سائنس تک، جذبات سے لے کر رنگارنگ روشنیوں تک، کاروباری لوگ ہر حوالے سے انسان کو قابو کرتے ہیں۔ جب انسان قابو آ جاتا ہے تو پھر وہ اپنے مطلب پورے کرتے ہیں
۔ ایسے لوگوں کے لئے فیس بک تو اس وقت سونے کی چڑیا ہے کیونکہ فیس بک پر خاص سے لے کر عام انسان تک کا جمِ غفیر جو لگا ہے۔ اوپر سے عوام اپنے ”کلک کی قیمت“ بھی نہیں جانتی اور نہ ہی جاننا چاہتی ہے کہ اس کے ایک کلک سے کون کیا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہماری عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے، بغیر سوچے سمجھے شیئر پر شیئر اور لائیک پر لائیک کیے جاتی ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ ہر کوئی کاروباری نکتہ نظر سے ہی فیس بک وغیرہ پر شیئرنگ کر رہا ہے بلکہ کئی لوگ آگاہی یا دیگر کسی مقصد کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔ ویسے بھی فیس بک یا دیگر ویب سائیٹس کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کاروبار کیا جائے تو میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں البتہ دھوکہ دہی غلط ہے۔ یہ دھوکہ چاہے ویب سائیٹ کو دیا جائے یا عوام کو۔


یہ جو جگہ جگہ اشتہار نظر آتے ہیں کہ گھر بیٹھے بغیر اپنی ویب سائیٹ کے فیس بک وغیرہ سے پیسے کمائیں، ایسے اشتہار زیادہ تر ان لوگوں کے ہوتے ہیں جنہوں نے آن لائن پیسے کمانے کے طریقوں کے متعلق باقاعدہ کورس تیار کر رکھے ہیں اور دو چار ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ ابھی جو باتیں میں نے لکھی ہیں ان کورسز میں بھی اس سے ملتی جلتی باتیں ہی ہوتی ہیں یعنی فلاں فلاں ویب سائیٹ پر جائیں، یہ یہ کریں اور پھر پیسے کمائیں۔ پیسے کمانے کا سب بتاتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ”یہ یہ“ کرنے میں کتنی محنت اور وقت لگے گا۔ ”یہ یہ کرنا“ دھوکہ دہی ہے یا نہیں اور اس طرح پیسے کمانا جائز بھی ہے یا نہیں۔ ”یہ یہ کرنا“ کہہ دینا بہت آسان ہے مگر جب کرنے نکلتے ہیں تو بہت محنت اور وقت لگتا ہے۔ کئی لوگ چھ مہینے یا سال تک لگے رہتے ہیں اور جب کچھ ہاتھ نہیں آتا تو بدھو محنت اور وقت ضائع کر کے لوٹ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگ دھوکہ دہی سے گوگل ایڈسنس کا اکاؤنٹ تک بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔ اور تو اور ایسے ایڈسنس کے اکاؤنٹ جن میں پندرہ بیس ڈالر بھی ہوتے ہیں مگر اکاؤنٹ پانچ دس ڈالر میں فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔ بندہ پوچھے اگر یہ اکاؤنٹ ٹھیک ہے تو پھر تم پندرہ بیس ڈالر کا اکاؤنٹ پانچ دس میں فروخت کرنے کی بجائے خود کیوں استعمال نہیں کرتے۔ پچھلے دنوں گوگل نے ایسے بے شمار اکاؤنٹ بند کر دیئے تھے۔ ظاہر ہے دھوکے بازی زیادہ دیر نہیں چلتی۔ ویسے اس طرح کی دھوکے بازی کرنے والوں کی وجہ سے کئی صاف لوگ بھی مارے گئے، بہتی گنگا میں وہ بھی بہہ گئے یعنی گوگل کو جس پر ذرا سا بھی شک پڑا اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا۔
بہرحال بے شک آن لائن پیسے کمائے جا سکتے ہیں مگر سوچ سمجھ کر اس میدان میں اتریں کیونکہ یہ اتنا آسان بھی نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ ذرا سوچیں! جو بھی کام کریں گے اس میں محنت اور وقت ضرور لگے گا۔ اس لئے آن لائن پیسے کمانے کو آسان نہ سمجھیں۔ یہ بھی اتنا ہی مشکل اور محنت طلب کام ہے جتنا عام زندگی میں پیسے کمانا ہے بلکہ میں تو اس کو عام زندگی سے زیادہ مشکل سمجھتا ہوں۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے جب لوگ بیس بیس گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر مغز ماری کر کے پیسے کمانے کو آسان کہتے ہیں۔ مغز ماری تو ایک طرف، جو صحت خراب ہوتی ہے کیا اس کا کوئی ازالہ ہے؟ آپ دیکھ لیں جو لوگ آن لائن کام کر کے پیسے کماتے ہیں ان کی روٹین انتہائی خراب ہوتی ہے۔ نہ ان کے سونے کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ان کے جاگنے کا۔ خیر میں کسی کو آن لائن کام کرنے سے منع نہیں کر رہا، صرف حالات بتا رہا ہوں اور یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ اتنا آسان بھی نہیں جتنا عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں۔ ویسے میرا مشورہ ہے کہ اگر انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ہی چاہتے ہیں تو محنت کریں اور کسی ہنر کی بنیاد پر کمائیں یعنی ویب سائیٹ بنانے، ترجمہ کرنے، ڈیزائن تیار کرنے، اپنی آن لائن دوکان (Online Store) یااس جیسے دیگر کام کیونکہ مختلف ویب سائیٹس کے ذریعے تشہیری کاموں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آج ہے تو کل نہیں۔ بڑی کمپنیوں اور ویب سائیٹس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس وقت اپنی پالیسی تبدیل کر لیں اور آپ نے سالہاسال محنت کر کے جو ”تشہیری عمارت“ کھڑی کی تھی وہ    منٹوں میں گر جائے۔

Monday, April 27, 2020

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا وجوہات کیاں تھیں ابھی تک سامنے آنے والے الزامات کچھ اس طرح ہیں۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا وجوہات کیاں تھیں ابھی تک سامنے آنے والے الزامات کچھ اس طرح ہیں۔


فردوس عاشق اعوان نے حکومتی اشتہاری بجٹ سے 10 فیصد کمیشن لینے کی کوشش کی۔فردوس عاشق اعوان نے سرکاری ٹی وی کے کوٹے پر ضرورت سے زائد ملازم رکھے، انہوں نے بغیر اجازت دو سیکیورٹی گارڈز سمیت 9 ملازم رکھے ہوئے تھے۔فردوس عاشق عوان نے تین گاڑیاں لے.رکھی تھیں جس کی ان کو اجازت نہیں تھی، انہوں نے صفائی کرنے والے اور گارڈنر بھی پی ٹی وی کے کوٹے سے لیا تھا۔وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کی گئی تو فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا,زرائع
Best WordPress Hosting

لاہور پولیس میں ترقیوں کا عمل مزید بہتر و تیز کیا جا رہا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید

  لاہور پولیس میں ترقیوں کا عمل مزید بہتر و تیز  کیا جا رہا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید       ترقی سے ذمہ داری بڑھ جاتی ہے امید ہے کہ تمام افیسرز اچھی کارکردگی جاری رکھیں گے۔ ایس پی عائشہ بٹ




ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کی ہدایت پر ایس پی عائشہ بٹ نے اینٹی رائٹ فورس و ڈولفن اسکواڈ کے گریجویٹ کانسٹیبلز اور ہیڈ کانسٹیبلز پی کیڈٹ کے ذریعے ترقی پانے والے اہلکاروں کو رینک لگا دیے. پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ہونے والی تقریب میں ایس پی عائشہ بٹ اور ڈی ایس پی اینٹی رائٹ فورس رانا محمد اسلم کی شرکت کی۔ پی کیڈٹ کے ذریعے ترقی پانے والے 8 اینٹی رائٹ فورس و 3 ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں کو رینک لگائے گئے۔  ترقی پانے والے تمام افسران اعلیٰ تعلیم یافتہ ایم فل و ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں اور تمام میرٹ پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سلیکٹ ہوئے ہیں۔ رینک لگاتے ہوئے ایس پی اینٹی رائٹ فورس عائشہ بٹ نے کہا کہ ترقی پانے سے ذمہ داری بڑھ جاتی ہے امید ہے کہ تمام افیسرز اچھی کارکردگی جاری رکھیں گے۔ ماہ رمضان کے مبارک مہینے میں ترقی ملنا برکتوں میں اضافے کا باعث ہے۔  اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور،  رائے بابر سعید کا کہنا تھا کہ ترقی میں تعلیم، میرٹ اور پبلک سروس کمیشن کی سفارشات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ لاہور پولیس میں ترقیوں کا عمل مزید بہتر و تیز  کیا جا رہا ہے

رات گئے شادی شدہ خاتون کے سا تھ تین افراد کا گینگ ریپ ایک نامزد دو نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

رات گئے شادی شدہ خاتون  کے سا تھ تین افراد کا گینگ ریپ ایک نامزد دو نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج



تفصیلات کے مطابق تھانہ شاہ جمال کے قریب جتوئی روڈ سات مرلہ  سکیم میں گزشتہ رات گئے عابد چانڈیہ کے کھر گھس کیے محمد شریف عاربی اپنے دو نا معلوم ساتھیو ن کے ہمراہ اسماء بی بی جو کہ اپنی چارپائی پر  سوئی ہوئی وی کہ اوباشوں نے اٹھا کر قریبی گندم کی فصل میں لے گیے اور باری باری زیادتی کرتے رہے اور بیہوشی کی حالت میں پھینک  کر فرار ہو گیے قریبی تھانہ شاہ جمال 15پر کال کی تھانہ شاہ جمال کے علاوہ ڈی پی اومظفرگڑھ سید ندیم عباس شاہجمال  گینگ ریپ کا شکار اسماء بی بی کی عیادت کے لیے شاہجمال پہنچ گئے جاے وقوعہ پر پہنچ گئے تین اوباشوں کے خلاف مقدمہ درج گینگ ریپ کا شکار اسماء بی بی کو رورل ہیلتھ سینٹر شاہ جمال داخل کردیا گیا لیڈیز پولیس اہلکار تعینات وومن میڈیکل افسر سدرہ سالک نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ جاری کردی نمونہ جات ڈی این اے کیلئے لیبارٹری لاہور روانہ کردیئے ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان کی آمد بھی شاہجمال متوقع ہے سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہوتے ہی  وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا نوٹس ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کردیا ہیں

حکومتی امداد ملی نہ ہی راشن ملا، 6 بچوں کے باپ نے لاک ڈائون کے باعث بھوک اور غربت سے تنگ آکر موت کا گلہ لگالیا،

حکومتی امداد ملی نہ ہی راشن ملا، 6 بچوں کے باپ نے لاک ڈائون کے باعث بھوک اور غربت سے تنگ آکر موت کا گلہ لگالیا، بچوں کی طرف سے پانی پی کر روزہ رکھنے پر بیروزگار شخص نے دل برداشتہ ہوکر گندم کی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔


مظفرگڑھ کے علاقے کوٹ ادو میں پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کے باپ نذیر احمد نے لاک ڈاؤن کے باعث گھر میں فاقوں سے تنگ آکر خودکشی کرلی جبکہ 40سالہ شخص نذیر احمد غربت اور بیروزگاری کے باعث بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان تھا اور بچیوں کو بھوک اور پانی سے روزہ رکھتے دیکھ کر نذیر احمد نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ خودکشی کرنیوالے نزیر احمد کی بیوہ کے مطابق ایک ماہ سے کام بند تھا حکومت کی امداد بھی نہ ملی جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہوکر خود کشی کی ہے جبکہ متوفی نذیر احمد کی بچیوں کے مطابق گھر بھی کرایہ کا ہے ابو سے ہماری بھوک برداشت نہ ہوئی اور گھر کھانے کو کچھ نہیں تھا ابو لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان تھے۔ جبکہ پوسٹمارٹم نہ کرانے کے لیے اہلخانہ نے احتجاج کیا جس پر پولیس نے اہلخانہ کو مجسٹریٹ کو درخواست دینے کے لیے مزاکرات کیے۔

احساس کفالت پروگرام ،رقوم کی تقسیم کا سلسلہ موخر

ضلعی انتظامیہ کے مطابق احساس کفالت پروگرام میں بینکوں میں دو روزہ چھٹی کی وجہ سے رقوم کی ترسیل معطل کی گئی۔شہر کے 31 کفالت سینٹرز پر منگل کے روز سے رقوم کی ترسیل کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 یوم میں 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد میں 1 ارب 47 کڑوڑ 57 لاکھ کی رقوم تقسیم کی جا چکی ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے رجسٹرڈ افراد کے علاوہ احساس کفالت پروگرام میں 8171 پر ایس ایم ایس کرنے والے افراد کو بھی رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ شہر میں  احساس کفالت پروگرام کے تحت رقم کی تقسیم کا عمل جاری ہے ۔ڈی سی لاہور دانش افضال کا کہنا تھا کہ  شہر میں پہلےچار دنوں میں  احساس کفالت پروگرام کے تحت  39 کروڑ 29 لاکھ دو ہزار روپے کی رقم ادا کی گئی ہے،31 سینٹرز اور ان کے 110 کیش کاونٹرز پر بھر پور انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر دانش افضال کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ  لاہور نے احساس کفالت سینٹرز پر دوسرے مرحلہ کا آغاز بھی کر دیا۔
  احساس کفالت پروگرام پر سہ ماہی رقم حاصل کر نےوالی خواتین کے علاوہ دیگر مرد و خواتین کو رقم کی ادائیگی کی جا رہی ہے،ایسے مرد و خواتین جن کو 8171 سے میسج آیا ہے وہ میسج دیکھا کر رقم حاصل کر سکتے ہیں،میسج کو وصول کردہ مردو خواتین اپنا اصل شناختی کارڈ ہمراہ لائیں۔
خیال رہے ملک بھر میں 17ہزارمقامات سے فی کس 12ہزارروپے مستحق افراد میں تقسیم کیے جارہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جب تک لاک ڈاؤن کی صورتحال ختم نہیں ہوتی تک تب احساس پروگرام کے تحت مستحق ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کو ماہانہ پیسےفراہم کیےجائیں گے.
یوٹیوب پر پیسے کمائیں 

Sunday, April 26, 2020

انکل ہمارے ابو کو چھوڑ دیں ننھی عائشہ کی ہچکیاںSHO سے برداشت نہ ہوئیں

انکل ہمارے ابو کو چھوڑ دیں

ننھی عائشہ کی ہچکیاںSHO  سے برداشت نہ ہوئیں 
تھانہ سٹی خان پور ایس ایچ فقیر حسین ان  بائیں جانب دو بچے آٹھ یا نو سالہ عائشہ اور اس کا چھوٹا بھائی چھ سالہ حسن ہیں نہ تو یہ گمشدہ پولیس کو ملے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی غلطی سر زد ہوئی ہے ہوا ایسے کہ ان کے پاپا جاوید نے نوید نامی شہری سے لڑائی کی اور پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا اور عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے بند حوالات کر دیا

آج جاوید کی بیٹی عائشہ اور حسن تھانہ میں ایس ایچ او فقیر حسین کے دفتر میں ان سے ملے تو عائشہ کی ہجکی بندھ گئی جب ایس ایچ او نے شفقت اور پیار سے بچی کو دلاسہ دیا تو عائشہ نے کہا کہ انکل ہمارے پاپا کو چھوڑ دیں جب پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ حوالات میں بند جاوید کے بچے ہیں عائشہ کی ہچکیاں ایس ایچ کا دل موم کر چکی تھیں جس پر آنہوں نے فورا صدر انجمن تاجران خان پور مقبول احمد بھٹی کو فون کیا کیونکہ یہ مقدمہ دو دوکانداروں کے مابین تھا
بھٹی صاحب اور ایس ایچ کے درمیان افطاری کے بعد اکٹھے ہونے کا وقت طے ہوا ایس ایچ او فقیر حسین اور مقبول احمد بھٹی کی کوشش سے فریقین میں صلح ہو گئی اور اس طرح ایس ایچ تھانہ سٹی خان پور فقیر حسین نے عائشہ اور حسن کو مایوس نہیں ہونے
بلکہ ان پاپا کے ساتھ گھر بھیجا اللہ رب العزت ایس ایچ او فقیر حسین اور صدر انجمن تاجران مقبول احمد بھٹی اور اس صلح میں کردار ادا کرنے والے دیگر اہل دل کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین

کروناوائرس ایک ایسی وباء جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ

کروناوائرس ایک ایسی وباء جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ 
تفصیل کے مطابق ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ نے پیج حرف آخر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔پوری دنیا  کے حالات بہت خراب ہیں۔چائنا میں سب سے زیادہ وباء پھیلی ہے۔اور پھر دیگر ممالک میں یہ وباء پھیلتی گئی اور پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پاکستان میں نواں،دسواں ہفتہ چل رہا ہے۔پاکستان میں لاک ڈاؤن کو کمزوز کردیا گیا ہے۔ہمارے دوست احباب اور قوم بھی اس بات کو سیریس نہیں لے رہی۔میں تو بہت زیادہ خوف زدہ ہوں کہیں ہم اس حالت میں نہ چلیں جائیں جیسے دوسرے ممالک گئے ہیں۔میری اپنے تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ گھر بیٹھیں،سماجی دوری کو قائم رکھیں،کم ازکم تین سے چار فٹ کا فاصلہ رکھیں،ہاتھ نہ ملائیں،گلے نہ ملیں،نزلہ،کھانسی ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے احتیاط کریں۔کرونا وائرس کی ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے،تیاری کے مراحل میں ضرور ہے۔کچھ ممالک وومن ٹرائل کررہے ہیں۔کرونا وائرس کا اس وقت بہترین علاج صرف اور صرف سماجی دوری ہے۔

Dr.sb
مزید پروگرام سننے کے لئے آپ ہمارے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کرکے سن سکتے ہیں 
https://web.facebook.com/hearfeakhar/videos/3468607429835349/

بیٹی اللہ کی رحمت کالم نگار یوسف تھہیم (عہدِحاضر)

بیٹی اللہ کی رحمت


محترم قارئین کرام ،
12 اپریل بروز اتوار رات تقریبا 9 بجے میرے ہاں پہلی بیٹی لاریب زینب کی پیدائش نے مجھ پر اللہ کی رحمت ، انعام اور نعمت واضح کر دی ۔آجکل عممومی طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہو اکثریت لوگ مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور تو اور فیملی کے علاوہ عزیزواقارب بھی طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں لیکن میرا رب جانتا جس قدر میں بیٹی کی پیدائش پر خوش ہوں شاید زندگی میں ایسے خوشی کے  لمحات کبھی آئیں ہوں ۔ دین اسلام سے قبل تاریخ کو پڑھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دین اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور جس کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی اُس عورت اور بیٹی سے انسانیت سوز سلوک کیا جاتا لیکن دین اسلام نے عورت کو جس قدر اہمیت ومقام دیا اسکی مثال نہیں ملتی ۔ دین اسلام نے عورت کے حقوق تعین کئے اسے ہر نظر میں اہمیت و مقام عطاء کیا ۔ ماں کے روپ میں جنت ، بیوی کے روپ میں پیار ، بیٹی کے روپ میں رحمت اور بہن کے روپ میں عزت عطاء کی ۔جائیداد میں باپ اور والد کی طرف سے دو حقوق دئیے حتی کہ عورت کو ہر طرح سے تحفظ اور اہمیت دی بلکہ آپ سرکار ؐ نے یہاں تک فرمایا جس نے دو یا دو زیادہ بیٹیوں کی کفالت کی وہ جنت میں میرے قریب ایسے ہو گا جیسے دو انگلیاں ہیں ۔
کالم نگار
بیٹی بلاشبہ اللہ کی رحمت ہوتی ہے ایک مولانا منبر رسولؐ پر بیٹھے ہوئے بیٹی کا قصہ سناتے ہوئے رو پڑے آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔ آنکھوں میں اشک لئے وہ فرماتے ہیں کہ میرا بیٹا اور بیٹی روزانہ پرچیاں ڈالتے بادشاہ،وزیر اور چور ان میں سے ایک پرچی اٹھاتے جو چور نکلتا اس سے گھر کے چھوٹے موٹے کام لئے جاتے ۔ ایک دن مولانا صاحب کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے بیٹے نے پرچیوں پر نشانی لگا رکھی ہے اور اپنی بہن کو روز چور بناکر کام لیتا ہے تو مولانا نے یہ سوچ کر کہا مجھے بھی کِھیلائو  تاکہ آج بیٹی کو بادشاہ بناتا ہوں اور خود چور بنتا ہوں ۔ بیٹے کی طرح حسبِ روایت انہوں نے بھی پرچیوں پر نشانیاں لگا لیں اس دن چور کا قرعہ مولانا صاحب کے نام نکلتا ہے اور بیٹی بادشاہ بن جاتی ہے ۔ باپ کو چور بنتا دیکھ کر بیٹی روتے ہوئے باپ کے گلے سے لپٹ جاتی ہے اور کہتی ہے میرے بابا چور نہیں ہے اور زارو قطار روتی ہے ۔ یہ ہیں بیٹیاں جو اپنے باپ کو چور بننا تو دور سننا بھی پسند نہیں کرتیں ۔بیٹیوں والوں کو تو بیٹی کی اہمیت و قدر کا اندازہ ہو گا اور جن کے ہاں بیٹیاں ہیں صاحبِ اولاد افراد انکی قدر کریں انہیں بیٹوں سے زیادہ اہمیت دیں ۔ بیٹیاں بڑی لجپال ہوتی ہیں اور ہمیشہ ماں باپ کا سہارہ بنتی ہیں ۔ میرے بزرگ کہا کرتے تھے بیٹا ، بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں انکو لاڈ سے رکھو انکی عزت و تکریم کرو یہ تمہاری عزت میں اضافہ کریں گی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورت کو یہاں تک مقام دیا کہ اگر نیک بیوی ہے تو دنیا کی سب سے بڑی دولت اور اگر بہن یا بیٹی ہے تو جہنم کی راہ میں دیوار ۔
بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں 
گھر جو خدا کو پسند ہوتا وہاں ہوتی ہیں 
آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف اﷲ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دنوں عطا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے اور نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے، لاکھ کوشش کرے مگر اولاد نہیں ہوتی۔ یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرمادیتا ہے۔ لڑکیاں اور لڑکے دونوں اﷲ کی نعمت ہیں۔ عورتیں مرد کی محتاج ہیں اور مرد عورتوں کے محتاج ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ جس میں دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ۔ 
بیٹیاں اللہ کی طرف سے رحمت، نعمت اور انعام ہوتی ہیں انکی پیدائش سے گھبرانا نہیں چاہئیے بلکہ یہ اپنا اور آپ کا رزق ساتھ لیکر آتی ہیں اوریہ آزمودہ بات ہے بیٹی کی پیدائش کے بعد انسان کے مال و رزق میں وسعتیں پیدا ہو جاتی ہیں اگر انسان اہلِ عقل اور اہلِ ایمان ہو تو اللہ پاک عزت میں بھی وسعت پیدا کر دیتا ہے ۔ میری بیٹی لاریب زینب کی پیدائش کے فوری بعد مجھ پر اللہ کے خاص انعامات ہوئے ۔ کالم نگاروں کی نمائندہ تنظیم نیشنل کالمسٹ کونسل آف پاکستان میں جنوبی پنجاب کے صدر کی حیثیت سے ذمے داری سونپ دی گئی اور تو اور کاروباری معاملات میں وسعتیں اور برکتیں ہو گئی ۔ بیٹی کی پیدائش سے قبل میں موبائل فون کے الارم سے اُٹھتا تھا اب میری بیٹی میرا الارم ہے ۔ نمازِ فجر کے وقت الارم بجنا شروع ہوتا ہے اور اللہ کی رحمتوں و نعمتوں کا سورج طلوع ہوتا ہے ۔ میری طرح ہر اہلِ عقل کے لئے بیٹیاں رحمت و نعمت ہیں اور ہر صاحبِ اولاد کو بیٹیوں کی قدر کرنی چاہئیے انکی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑیں انکو حُسن و اخلاق کا پیکر بنا دیں میرے رب اور اسکے رسول ؐ کا وعدہ ہے روزِ محشر حضور کی شفاعت اور قربت آپ کی نجات کا ذریعہ بنے گی ۔

مظفرگڑھ کے شہریوں کے بہترین خوشخبری افطاری کا سامان اب ملے گا آپ کو گھر پر ہی


مظفرگڑھ کے شہریوں کے بہترین خوشخبری افطاری کا سامان اب ملے گا آپ کو گھر پر ہی
👏معزز صارفین👏
📣📣" *بلالو*" ہوم ڈیلیوری سروس📣📣
ایک با اعتماد ادارہ🏪 ہے جو تمام اشیائےخوردونوش،ادویات،بیکری ایٹمز،الیکٹریکل، مکینیکل کی سروس آپ کے دروازے پر مہیا کرنے والا *بااعتماد ادارہ* ہے۔🎉🎉
آپ کی ایک 📞*فون کال* 📞پر📢"*بلالو*"📢 آپ کے دروازے پر حاضر ہے۔
نوٹ: یہ سروس صرف مظفرگڑھ سٹی کے لیے ہے
( آرڈر فارم )
https://forms.gle/LbpyiBTe3pRGJsM88
رابطہ:
0301-5286464
0303-6866866
0333-6235406
0312-8891600
No I'm

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ مہنگائی نے غریب عوام کی چیخیں نکلوا دی

جونہی رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہوتا ہے دوکاندار خود ساختہ مہنگائی شروع کردیتے ہیں ۔جہاں پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے وہی سبزی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔دیہاڑی  دار مزدور طبقہ  مہنگائی کی وجہ سے کافی پرشان دکھائی دیتا ہے ۔ رمضان شریف میں افطاری کا سامان خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔  
  
سب سے پہلے لیموں کی قیمت 200 روپے تھی ۔لیکن رمضان المبارک میں لیموں کی قیمت 600 روپے تک جا پینچی ہے ۔دوسری جانب پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہوچکی ہیں۔اور خریدار دوکانداروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں 
اب آتے ہیں کجھور کی طرف
کجھور کی قیمت رمضان شریف سے پہلے 180 روپے فی کلو تھی ۔لیکن رمضان شریف میں کجھور کی قیمت 400 روپے تک جاپہنچی ۔ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ فی الفور نوٹس لے۔تاکہ دیہاڑی دار طبقہ بھی اچھی طرح اپنی افطاری کا سامان خرید سکیں کس

علی پور خانگڑھ دوئمہ خوفناک حادثہ۔موٹرسائیکل کوبچاتے ٹریکٹرٹرالی الٹ گئی۔ڈرائیورشدید زخمی۔

علی پور خانگڑھ دوئمہ خوفناک حادثہ۔موٹرسائیکل کوبچاتے ٹریکٹرٹرالی الٹ گئی۔ڈرائیورشدید زخمی۔تفصیل کےمطابق خانگڑھ دوئمہ نجم المرتضی باغ کےنزدیک یہ حادثہ اس وقت رونماہواجب ٹریکٹرسوار تیزی سےآتےہوئےموٹرسائیکل کوراستہ دینےکےلیے کچے پراتراتو ٹریکٹراپنالیول برقرارنہ رکھ سکا جسکی وجہ سےوہ الٹ گیااورتین فٹ گہرائی گندم کی فصل میں جاگرا لوگوں نےٹریکٹرڈرائیورکوبڑی مشکل سے نیچےسے نکالا جوکہ شدید زخمی حالت میں تھا اطلاع ملنےپرریسکیو 1122کی گاڑی موقع پرپہنچ گئی 

اورزخمی کو ابتدائی طبعی امداد فراہم کی ڈرائیورکانام امانت علی معلوم ہواہےجوکہ چنیوٹ سےمحنت مزدوری کےسلسلےمیں یہاں پرمقیم تھا۔زخمی ڈرائیور کی حالت خطرےسےباہربتائی جارہی ہے۔جائےحادثہ پرریسکیوٹیم کےفوری پہنچنےپرعوام نے انہیں خراج تحسین پیش کیا

مظفرگڑھ۔۔ تھانہ خان گڑھ کی حدود میں 15 سالہ لڑکے کی 9 سالہ لڑکی سے مبینہ بد اخلاقی۔

مظفرگڑھ۔۔ تھانہ خان گڑھ کی حدود میں 15 سالہ لڑکے کی  9 سالہ لڑکی سے مبینہ بد اخلاقی۔


مظفرگڑھ۔۔ تھانہ خان گڑھ کی حدود میں 15 سالہ لڑکے کی  9 سالہ لڑکی سے مبینہ بد اخلاقی۔۔۔ پولیس نے ملزم کو فوری گرفتار کر لیا. تھانہ خان گڑھ کی حدود گل والہ بستی مونڈ میں حاجی امام بخش نے کریانہ کی دکان بنا رکھی ہے. جس کے 15 سالہ بیٹے عثمان نے حسب معمول اتوار کی صبح دکان کھولی. اس دوران بستی کے رہائشی صابر کی 9 سالہ بیٹی دکان پر سودا سلف لینے آئی. جس کو ملزم عثمان نے ورغلاء کر دکان کا شٹر گرا کر دکان کے عقبی حصے میں لے جا کر اس کو زبردست بداخلاقی کا نشانہ بنایا. بچی کے رونے پر مقامی لوگ جمع ہو گئے اور سارا واقعہ علم میں آنے پر ملزم عثمان کو اس کی دکان میں بند کر کے 15 پر کال کردی.جس پر خان گڑھ پولیس موقع پر پہنچ گئی مکینوں نے ملزم عثمان کو سب انسپکٹر امیر نواز خان اور ہیڈ کانسٹیبل ملک ندیم کے حوالے کر دیا. جسے پولیس نے گرفتار کر کے تھانہ خان گڑھ منتقل کر دیا اور قانونی کارروائی شروع کر دی.

Friday, April 24, 2020

ایم پی اے نیاز حسین خان گشکوری کا کہنا ہے کہ میری قوم میری محسن ہے میں اور میری نسلیں تابعدار رہینگی


ایم پی اے نیاز حسین خان گشکوری کا کہنا ہے کہ میری قوم میری محسن ہے  میں 

اور میری نسلیں تابعدار رہینگی


ایم پی اے نیازحسین خان گشکوری نے سوشل میڈیا پر پروگرام رابطہ میں انٹرویو دمیں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری قوم کی محنت کی وجہ سے آج میں الیکشن جیتا ہوں اور میری قوم کے ہر نوجوان نے میری الیکشن کمپین میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔میری گشکوری قوم کے ہر غریب نوجوان نے اپنی جیب سے پیسے لگائے ۔اور اور الیکشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ میں اور میری نسلیں ہمیشہ اپنی گشکوری قوم کی بابعداد ررہینگی ۔انہوں گشکوری اتحاد کے چئیرمیں کجاشف ممتازگشکوری کے بارے میں کہا کہ کاشف کی گشکوری قوم کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ہے ۔کاشف کی خدمات کو نہیں بھلایا جاسکتا کاشف نے دن رات محنت کرکے گشکوری قوم کو اکٹھا کیا ہے اور اسی کی بدولت آج میں ایم پی اے بنا ہوں ۔میری قوم کے کسی نوجوان نے آج تک مجھے کوئی غلط بندے کی سفارش پر مجبور نہیں کیا ۔لیکن ایک بات میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ میری قوم مجھے سے اچھا کی امید تو لازمی کرے لیکن کسی بھی غلط میں ان کا ساتھ نہپیں دونگا ۔

ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں اور مکمل ویڈیو دیکھیں ۔
https://bit.ly/357Gfh9

Saturday, April 4, 2020

حساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی ایس ایم ایس سروس کا اجرا

کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے متاثرین کے لیے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پر ایس ایم ایس سروس کا اجرا کر دیا گیا۔ضرورت مندوں کے لیے بنائے گئے کیش پروگرام میں ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کی کفالت کی جائے گی اور ہرخاندان کو12ہزار روپےملیں گے۔کیش پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے ایس ایم ایس سروس کا
اجرا کر دیا گیا ہے،
 رجسٹریشن کے لیے 8171 پر شناختی کارڈنمبر بغیر اسپیس کے بھیجنا ہوگا۔سرکاری ملازمین کیش پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے اور ڈیٹا سرور سرکاری ملازم کی درخواست مسترد کر دے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کیش پروگرام کی شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر ایس ایم ایس کیا تو سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے درخواست مسترد کر دی گئی۔وزیراعظم کو پیغام موصول ہوا آپ سرکاری ملازم ہیں احساس ایمرجنسی پروگرام کا حصہ نہیں بن سکتے۔مزید ویڈیو میں دیکھیں

Friday, April 3, 2020

ڈی پی او اختر فاروق نے تھانہ کوٹ مبارک کا وزٹ کیا۔


*ڈیرہ غازیخان۔
ڈی پی او اختر فاروق نے تھانہ کوٹ مبارک کا وزٹ کیا۔
ایس ایچ او تھانہ کوٹ مبارک کو ہدایت کی کہ مجرمان اشتہاریوں اور ناجاٸز اسلحہ رکھنے والوں کی زیادہ سے زیادہ گرفتاری عمل میں لاٸیں۔
مٶثر گشت کرتے ہوۓ جراٸم پیشہ عناصر کے خلاف بھر پور کارواٸ عمل میں لاٸ جاۓ۔
سنگین مقدمات میں مطلوب مجرمان اشتہاریوں/ ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیں۔
تھانہ میں آنے والے ساٸلین کے مساٸل ترجیح بنیادوں پر حل کۓ جاٸیں، انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوۓ زیر تفتیش مقدمات کو جلد یکسو کیا جاۓ۔
پولیس اپنی کارکردگی مزید بہتر کرئے اور عوام کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔
ترجمان پولیس۔

حکومت کا نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کا اعلان

حکومت کا نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کا اعلان

اساتذہ کو تنخواہ نہ دینے والے نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کریں گے، صوبوں کو بھی تنخواہ نہ دینے پر اسکولوں کیخلاف کارروائی کی تجویز دیں گے: وفاقی وزیرِتعلیم شفقت محمود

حکومت نے نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔ وفاقی وزیرِتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اساتذہ کو تنخواہ نہ دینے والے نجی سکولوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یم صوبوں کو بھی تنخواہ نہ دینے پر اسکولوں کیخلاف کارروائی کی تجویز دیں گے۔ وفاقی وزیرِتعلیم نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ جواسکول اساتذہ کوتنخواہ نہیں دیں گے ، ان کےخلاف کارروائی ہوگی، تمام نجی اسکولز اساتذہ کو مستقل تنخواہیں دیں، ، تنخواہ نہ دینے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کو بھی تنخواہ نہ دینے والے سکولز کیخلاف کارروائی کی تجویز دیں گے، یہ تجویز 
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی دی جائے گی۔
دوسری جانب کورونا وائرس کے باعث لوگوں کے کاروبار زندگی ٹھپ لیکن پرائیویٹ سکول پوری فیسیں وصول کرنے لگے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ساری دنیا میں کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے، سٹاک مارکیس کریش کرہی ہیں اور روزگارِ زندگی چلانا مشکل ہوگیا ہے اور نجی و پرائیویٹ تمام تعلیمی اداروں میں بھی چھٹیاں ہیں ایسے میں پرائیوٹ سکولز نے والدین پر سکول کی فیسوں کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
سکولز میں اس وقت چھٹیاں ہیں اور پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی بند ہیں لیکن سکول مالکان نے ایک دفعہ بھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلباء کو فیس ادا کرنے کا کہا ہے۔ پرائیویٹ سکول مالکان بچوں کے والدین سے چھٹیوں کے باوجود فیس وصول کر رہے ہیں جبکہ آمدنی کے ذرائع بند ہیں اور حکومت نے بھی سکول مالکان سے کہا ہے کہ وہ چھٹیوں میں آدھی فیس وصول کریں لیکن مالکان نے طلباء کو پوری فیس ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کورونا کی وجہ سے یوٹیلیٹی بل کم ہو گئے ہیں، حکومت نے ٹیکسز معاف کردیے ہیں، بجلی اور گیس کے بل بھی قسطوں کی شکل میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن پرائیویٹ سکول مالکان فیسوں کی پوری وصولی کر رہے ہیں۔ والدین نے اس حوالے سے احتجاج کیا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ایک طرف بچوں کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور دوسری طرف سکول مالکان مزے سے اپنے گھروں میں بند ہیں بچوں کے والدین کاروبار بند ہونے کے باوجود ان سے فیسیں لے رہے ہیں۔

‫نکا پیر کی اصلیت اور حقیقی چہرہ دینا پیرکے لئے پاگل ہوگئی

Search Results

Web results


‫نکا پیر کی اصلیت اور حقیقی چہرہ Reality Of Nika Peer

نکا ہیر ایک چار سال کا بچہ کیسے پیر بن سکتا ہے ۔نکا پیر عرف دیان کاظم کی ویڈیو دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں 

‫نکا پیر کی اصلیت اور حقیقی چہرہ

https://bit.ly/3dOsiZr

Thursday, April 2, 2020

سوشل میڈیا زہن سازی میں کتنا کردار ادا کر رہا ہے

حکومت سوشل میڈیا پہ قدغنیں لگانے کی تیاریاں کر رہی ہے کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ سوشل میڈیا اس وقت ذہن سازی میں مین کتنا بڑا کردار ادا کر رہا ہے خبروں اور میڈیا پہ نظر رکھنے والی اک غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق پاکستان میں اسی فیصد لوگوں کے لیے خبروں کا پلیٹ فارم سوشل میڈیا ہے 
اک عرصے سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ سوشل میڈیا مین سٹریم میڈیا کی جگہ لے لے گا اب یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی ہے
ملک کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے کون سی جماعت کتنا اچھی ہے کون کتنا بڑا لیڈر ہے کون سا میڈیا چینل کس طرح کا کام کر رہا ہے اس حوالے  سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز عوام کی ذہن سازی میں بہت بڑا کردار ادا کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب مین سٹریم میڈیا کے بڑے بڑے نام سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں سوشل میڈیا ویب سائیٹ فیس بک سیاسی طور پہ اتنا مضبوط ہو چکی ہے کہ یہ کئی ملکوں میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہے یہی وجہ ہے فیس بک اور انسٹا گرام کے مالک مارک زکر برگ کو دنیا کو وضاحت دینا پڑ گئی مارک زکر برگ نے امریکی کانگریس کے نمائندگان کو بریفنگ دی کہ وہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کی ذمہ داری کو کس طرح سے ادا کریں گے
الیکشن کے نتائج پہ اثر انداز ہونے کے سبب دو ہزار اٹھارہ میں فیس بک نے بشمول پاکستان ان چار ممالک جہاں الیکشن کا انعقاد ہونے والا تھا اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کی
ماضی میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو بھی فیس بک و ٹوئیٹر کی سوشل میڈیائی جماعت ہونے کے طعنے دیے جاتے رہے لیکن یہی سوشل میڈیائی جماعت اس وقت پاکستان میں حکومت کر رہی ہے چند دن قبل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو وزیر اعظم ہاؤس سے دعوت نامہ موصول ہوا جہاں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ان سے ملاقات کی یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا بھر کی مین سٹریم سوشل میڈیا کو کس قدر اہم سمجھتی ہے
اس کی خاصیت یہ ہے کہ سوشل میڈیا تک عام آدمی کی رسائی ہے بنا کسی فلٹر بنا کسی چیک کے عام آدمی اشرافیہ کی کارکردگی پہ سوال اٹھا رہا ہے سوشل میڈیا نے بڑے بڑے سکینڈل بے نقاب کیے ہیں کھیل شوبز سیاست میڈیا بیوروکریسی حتٰی کہ اسٹیبلشمنٹ بھی سوشل میڈیا کے طوفان میں بہہ چلے ہیں دنیا کو کنٹروک کرنے والوں کے لیے سوشل میڈیا درد سر بن چکا ہے اسی سوشل میڈیا نے اک عام سے چائے والے کو سٹار بنا دیا اسی سوشل میڈیا نے شامی مہاجر ایلان کردی کی موت کو دنیا بھر کا سانحہ بنا دیا اسی سوشل میڈیا کی بدولت شاپر کی جرسی بنائے دس سالہ افغان بچے کی فٹ بال سٹار اور اپنے ہیرو میسی سے ملاقات ممکن ہو پائی اسی سوشل میڈیا نے امریکہ میں بیٹھی لڑکی اور پاکستان میں بیٹھے لڑکے کو اک بنا دیا
صرف یہی نہیں سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے روزگار کا اک ذریعہ بن چکا ہے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ان پلیٹ فارمز سے پیسہ بنا رہے ہیں بڑے بڑے کارپوریٹ ادارے پروموشن کے لیے سوشل میڈیا کی طرف رخ کر رہے ہیں پروڈکٹس کی پروموشن پہ ہی موقوف نہیں اب تو فلموں اور ڈراموں کی پروموشن کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ لیا جا رہا ہے ماضی قریب میں خلیل الرحمان قمر کے ڈرامے میرے پاس تم ہو کی مثال لے لیں ڈرامے کا اک کلپ سوشل میڈیا پہ وائرل ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ڈرامہ ریٹنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دیتا ہے اس کی آخری قسط سینما میں دکھائی جاتی ہے اس کا اک کردار دانش مرتا ہے تو پورا ملک اس پہ بات کرتا ہے 
آئی ایس پی آر کا تیارکردہ ڈرامہ عہد وفا آن ائیر ہوتا ہے سات آٹھ اقساط کے بعد اک سرائیکی کردار گلزار کی اینٹری ہوتی ہے کردار گلزار کے تعارف پہ مبنی کلپ کیا وائرل ہوتا ہے ڈرامہ رائیٹر کو اس کردار کو دوبارہ لکھنا پڑ جاتا ہے تا کہ اس مقبول کردار کو آگے بڑھایا جا سکے اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا گلزار کا کردار مختصر ہونے کی وجہ سے اب تک یہ ڈرامے میں نظر بھی نہ آ رہا ہوتا
افکار علوی گوہر والہ بھکر کا اک نوجوان ہے متوسط طبقے کا اک عام سے سرائیکی شاعر لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے اس کی نظم مرشد بچے بچے تک پہنچی اور خود افکار علوی مین سٹریم میڈیا کے پرائم ٹائم کے پروگرامز تک پہنچا
اسی سوشل میڈیا نے کئی ممالک میں بغاوت کی لہر کھڑی کر دی یہی سوشل میڈیا لیہ کی اک یتیم بچی کی آواز بنا اور سی ایم پنجاب کو نہ صرف بچی کو نوکری دینا پڑی بلکہ اس سے ناانصافی پہ معافی مانگی یہی سوشل میڈیا زینب کیس میں حاکموں کو کٹہرے میں گھسیٹ لایا یہی سوشل میڈیا سانحہ ساہیوال کی حقیقت آشکار کرنے کا باعث بنا ورنہ معصوم اریبہ اور اس کے والدین دہشت گرد قرار دیے جا چکے تھے دنیا بھر میں ہزاروں لاکھوں واقعات ایسے ہیں جو مین سٹریم پہ اثر انداز ہوئے اور ان کا محرک سوشل میڈیا تھا
آج کی سیاست سوشل میڈیا کے بغیر ادھوری ہے سوشل میڈیا فرش سے عرش اور عرش سے فرش تک لا پٹخنے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا پہ کنٹرول رکھنے والے پانچ پرسنٹ طبقے کے لیے سوشل میڈیا اک ڈراؤنے خواب کا روپ دھار چکا ہے اس لیے یہ مین سٹریم طبقہ سوشل میڈیا پہ کنٹرول حاصل کرنے کا خواہاں ہے مہذب ممالک میں فریڈم آف سپیچ اک ایسا حق ہے جس پہ ڈاکہ ڈالنے کا اتھارٹیز سوچ بھی نہیں سکتیں لیکن مشرق میں حالات دگرگوں ہیں یہاں عوام کو معلومات تک رسائی اور فریڈم آف سپیچ کی حدیں مقرر کی جاتیں ہیں موجودہ سائبر اصلاحات اسی سلسلے کی اک کڑی ہیں اب دیکھنا یہ ہے پاکستانی عوام اس معاملے پہ کیا ردعمل دیتی ہے ردعمک دیتی بھی ہے یا غیر اہم سمجھ کر اسے نظرانداز کر دیتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرح ان پریڈکٹ ایبل ہے کس لمحے کیا کر بیٹھے کچھ پتہ نہیں ہوتا اگر کرنے پہ آئے تو پہاڑ جیسا ہدف آسانی سے حاصل کر لے نہ کرے تو پہاڑ گرا دو حرکت نہیں کرے گی

رضوان ظفر گورمانی

میونسپل کمیٹی سنانواں کی نااہلی کی وجہ سے وارڈ نمبر 5 مچھرو‍ں و دیگر وبائی امراض کا مسکن بن چکا ہے

ڈاکٹر اسد رحیم (نمائندہ اردو نیوز سنانواں)  میونسپل کمیٹی سنانواں کی نااہلی کی 
وجہ سے وارڈ نمبر   مچھرو‍ں و دیگر وبائی امراض  کا مسکن بن چکا ہے

وارڈ نمبر 5 میونسپل کمیٹی سنانواں ریلوے لائن کے اردگرد گندگی و کوڑا کرکٹ کا انبار لگ گئے  ہیں - کئی بار متعلقہ احکام کو آگاہ  کیا گیا پر سوائے خالی لاروں کے کچھ نہ مل سکا- علاقہ مکینوں کا اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حالیہ حالات کے باعث ہمیں کرونا وائرس سے نہیں بلکہ یہاں سے پیدا ہونے والے مچھروں سے وبا کا خطرہ ہے مچھر ساری رات سونے نہیں دیتے بچوں کو الرجی و دیگر کئ بیماریاں ہو رہی ہیں - میونسپل کمیٹی کا عملہ یہاں سے گندگی صاف کرنے کی بجائے الٹا ڈیلی بیس پہ پورے شہر کا کچرہ اٹھا کہ یہیں پھینک جاتے ہیں. پورے علاقے میں بدبو و تعفن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے. اگر یہی حال رہا تو آنے والے چند دنوں میں یہاں پہ رہائش رکھنا جان سے کھیلنا ہوگا

فوڈ حکام کی ناقص حکمت عملی سنانواں میں آٹے کی قلت عوام مارے مارے پھرنے لگے

سنانواں (اسپیشل رپورٹر) فوڈ حکام کی ناقص حکمت عملی سنانواں میں آٹے کی قلت عوام مارے مارے پھرنے لگے ڈی سی مظفر گڑھ آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انجینئر کاشف ممتاز گشکوری

تفصیل کے مطابق سماجی رہنما  انجینئر کاشف ممتاز گشکوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سنانواں میں ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی کو آٹے کی قلت کا سامنا ہے آٹے کے حصول کیلئے سنانواں کی عوام گزشتہ کئی دنوں سے مارے مارے پھر رہے ہیں آٹا پہلے تو مل نہیں رہا آگر کہیں ملے تو بلیک پر مہنگا مل رہا ہے سیل پوائنٹس پرچند افراد کو دیکھاوے کیلئے آٹا دے کر باقی بلیک مافیہ کو فروخت کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر صاحب سنانواں میں آٹے کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے علاقائی رضا کارانہ ٹاسک فورس تشکیل دے کر آٹا سیل پوائنٹس پر ان کی ڈیوٹی لگائیں جس سے آٹے کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔ آٹا بحران کی وجہ سے کئی گھروں میں فاقے کی نوبت آگئی ہے،انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر، ڈی سی مظفرگڑھ سے آٹا ذخیرہ کرنے والےبلیک مافیہ کےخلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی ایس ایم ایس سروس کا اجرا

#احساس_پروگرام میں #رجسٹرڈ ہونے کیلئے اپنا شناختی کاررڈ نمبر بغیر ڈیش کے 8171 پر ایس ایم ایس SMS کریں #مستحق خاندان کو 12 ہزار روپے ملیں گے

#یاد رہے جن خواتین کو #بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم ملتی ہے انکو وہ رقم اب پچھلے 9 مہینوں سے احساس پروگرام سے ملتی ہیں لہذا ان کا #گھرانہ ایس ایم ایس نہ کرے۔

اگر کوئی شخص یا اسکی بیوی یا بچے ماہانہ #ایکہزار روپے کا #ایزیلوڈ کرتے ہیں یا ان میں سے کسی کے نام پر #گاڑی رجسٹرڈ ہے تو وہ بھی احساس پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں ہوگا

جن #خواتین کو #طلاق ہوچکی ہے اگر ان کے #سابقہ شوہر کا #پاسپورٹ بنا ہو تو وہ بھی احساس پروگرام میں شامل نہیں ہوگا۔

جو شخص خود یا بیوی بچوں میں سے کوئی #سرکاری ملازم ہوگا اسکا نام بھی احساس پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں ہوگا۔

اگر کسی کا شخص کا #پاسپورٹ بنا ہو یا اسکے ماں باپ اور بیوی بچوں میں سے کسی کا پاسپوٹ بنا ہو تو وہ احساس پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں ہوسکتا۔

جن افراد کو ماہانہ #پنشن ملتی ہے انکا نام بھی احساس پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں
ہوگا
جس کے #بینک_اکائونٹ میں 25 ہزار یا زائد رقم ہوگی وہ بھی احساس پروگرام میں شامل نہیں ہوگا

جس کو یہ #مسیج آئے گا کہ 
برائے مہربانی احساس ایمرجنسی پروگرام کی رجسٹریشن کے لئے اپنے #متعلقہضلعانتظامیہ سے رابطہ کریں.
وہ احساس پروگرا میں شامل نہیں ہوسکتا

جس کو یہ #مسیج آئے گا کہ
‏آپ کے  والد یا والدہ احساس ایمرجنسی پروگرام کے لئے اہل ہیں. رقم کے حصول کے لئے #بذریعہ SMS آپ کو #جلد #آگاہ کیا جائے گا.
یہ گھرانا احساس پروگرام کیلئے #اہل ہے اور اسکو 12 ہزار روپے ملیں گے

اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں

کمشنر ڈیرہ غازی خان نے کہا ہے کہ اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں، ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی، یہ بات انہوں نے مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کا دورہ کرتے ہوئے کہی، ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب خان ترین، اسسٹنٹ کمشنر علی پورعرفان ہنجرا بھی ان کے ہمراہ تھے، کمشنر نسیم صادق نے تحصیل علی پور میں کورونا کی وبا سے بچاؤ کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جاری جنگ میں ہم سب نے مل کرلڑنا ہے اور اپنی اپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے نبھانا ہے، انہوں نے کہا کہ بحیثیت انتظامی افسران ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوام کو لاک ڈاؤن کے دوران اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، عوام کی نقل و حمل کوکم سے کم کیا جائے، انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے سماجی رابطوں کو وقتی طور پر موقوف کردیں اور اپنے گھروں تک محدود رہیں، ہر فرد اپنی حفاظت کو یقینی بنائے تاکہ اس کے گھر والے بھی محفوظ رہیں، کمشنر ڈیرہ غازی خان نے ہیڈ پنجند پر قائم سکریننگ کیمپ کا بھی معائنہ کیااور صوبہ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے افراد کی سکریننگ کے عمل کا بھی جائزہ لیا، کمشنر نے ڈپٹی کمشنر انجینئر امجد شعیب خان ترین اور اسسٹنٹ کمشنر علی پور عرفان ہنجرا کی طرف سے کئے جانے والے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

محمودکوٹ شہر میں احساس ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے مستحق افراد کے لیئے راشن تقسیم کرنے کا عمل جاری

نمائندہ اردو نیوز (محمودکوٹ) 
محمودکوٹ شہر میں احساس ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے مستحق افراد کے لیئے راشن تقسیم کرنے کا عمل جاری، مصیبت کی اس گھڑی میں جہاں حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ گھروں میں رہیں تؤ اس پر سب سے زیادہ عمل ہمارے ایم این اے ایم پی اے کر رہے ہیں ، اس وقت تک محمودکوٹ میں تقریباً 250 گھروں میں احساس ویلفئیر سوسائٹی کی جانب سے راشن تقسیم کیا گیا ہے اسکے علاوہ یہ عمل انشاءاللہ جاری رہے گا ، اس موقع پر آرگنائز سید عدنان جیلانی کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں معززین علاقہ اور دوست احباب کے تعاون سے مزید گھروں میں راشن تقسیم کریں گے ، اللہ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اس موزی مرض سے بچائے اور بلخصوص وہ جو مشکل وقت میں دوسروں کا خیال رکھتے ہیں

مظفرگڑھ میں ہینڈز کی جانب سے بیواؤں،غریبوں اور معذوروں پر مشتمل 250 خاندانوں میں گھر گھر جاکر راشن بیگز تقسیم کئے

سنانواں (نمائندہ اردو نیوز   ) مصیبت کی اس گھڑی میں رنگ نسل قومیت سے بالاتر ہو کر سماجی تنظیم  اپنے غریب بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. مظفرگڑھ میں ہینڈز کی جانب سے بیواؤں،غریبوں اور معذوروں پر مشتمل 250 خاندانوں میں گھر گھر جاکر راشن بیگز تقسیم کئے۔ اس موقع پر ہینڈز کی ڈسٹرکٹ ہیڈ مس سعدیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا کہ ہینڈز نے 
ایسے گھروں میں راشن پہنچانے کا عزم کیا ہے جو موجودہ حالات کی وجہ سے بےروزگار ہو چکے ہیں اور انہیں اپنے خاندان کی کفالت کرنے میں مشکلات درپیش ہیں مظفرگڑھ میں معذور افراد کی بڑی تعداد موجودہ حالات سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے انکی دہلیز پر جاکر انہیں راشن فراہم کیا اب تک مظفرگڑھ میں 250  خاندانوں کو آٹا، گھی، دالیں، چاول، صابن ،صرف اور مصالحہ جات کے راشن بیگز تقسیم کئے گئے۔نواحی علاقوں میں ضرورت مند افراد کو تلاش کرکے انکی مدد کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Wednesday, April 1, 2020

احمد پور شرقیہ ۔ راشن کارڈ کے نام پر200 روپے بٹورنے والے نوسر باز گرفتار

احمد پور شرقیہ ۔ راشن کارڈ کے نام پر200 روپے بٹورنے والے نوسر باز گرفتار  ۔ 

غریب خواتين سے 200 روپے فی شناختی کارڈ راشن کارڈ کے نام پر وصول کیے جا رہے تھے ۔ 

لوٹ مار کا بازار گرم تھاشہری کی 15 کال پر پولیس نے دو نوسر بازوں کو گرفتار کر لیا ۔ 

کٹڑا احمد خان کے راٸشی محمد افضال اور قاسم پر مقدمہ درج کرلیا۔

دیان کاظم عرف نکا پیر کون تھا ۔فلموں میں کام کرنے کا شوقین آخر پیر کیسے بن گیا


  • دیان کاظم عرف نکا پیر کون تھا ۔فلموں میں کام کرنے کا شوقین آخر پیر کیسے بن گیا

  • دائرہ دین پناہ سے تعلق رکھنے والے شخص کاظم کو اللہ تعالی نے ایک بیٹا دیا ۔جس کا نام دیان رکھا گیا۔ دیان انتہائی ذہین تھا۔جو چیز بھی ایک بار یاد کروادی جاتی اس کے دماغ میں بیٹھ جاتی تھی ۔چار سال کی عمر میں کاظم اپنے بیٹے کو کوٹ ادو میڈیا آفس لیکر گیا ۔اور وہاں پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس کو شوق ہے کہ اس کا بیٹا فلموں مین کام کرے ۔چار سال کی عمر میں دیان نے سلطان راہی کے ڈائیلاگ مارنا شروع کردئیے تھے۔میڈیا کا نمائندہ اسے ڈی ایس پی افس لیکر جاتا ہے اور وہاں دیان اپنے ہنر دکھاتا ہے ۔اور تقریر کرتا ہے ۔اور وہی میڈیا کا نمائندہ کاظم کو 
  • مشورہ دیتا ہے کہ اس کو پیر بنا دے 

  • بس اسی دن سے کاظم اپنے گھر واپس ایا اور اپنے بیٹے کو دیان کاظم سے نکا پیر بنا دیا جسے اج کل لوگ دیان بابا کے نام سے جانتے ہیں۔حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ دیان کاظم کو پیر تصور کیا جائے اس کے والدین نے صرف ایک ہی بات سکھائی ہے جو کوئی بھی پوچھے کہ تم پیر ہوں تو صرف ایک بات ہی کہنی ہے کہ میں تو آقا کا غلام ہوں ۔بس بہت سے لوگوں نے انٹرویو کئے پلینگ کے ساتھ انٹرویو کئے گئے ۔بقیہ قسط اگلی دفعہ