coinpayu

Friday, March 7, 2025

مریم نواز صاحبہ! غریبوں کے بعد بااثر مافیا کے خلاف ایکشن کب ہوگا؟

 

وزیر اعلیٰ مریم نواز سے سوال: غریبوں کے بعد مافیا کے خلاف ایکشن کب؟

کوٹ ادو کے قریب سنانواں میں قائم فاطمہ کول پاور پلانٹ کے اطراف تجاوزات کی بھرمار نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روڈ کے دونوں کناروں پر بڑے بڑے ٹرالر کھڑے ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ موٹر سائیکل اور کار سواروں کے لیے سڑک سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں روزے داروں کے لیے یہ صورتحال مزید پریشانی کا باعث بن رہی ہے، مگر متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

غریبوں پر کریک ڈاؤن، مگر بااثر مافیا کو چھوٹ؟

حکومت پنجاب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ غریب ریڑھی بانوں، چھوٹے دکانداروں اور ٹھیلے لگانے والوں کو فوراً ہٹا دیا جاتا ہے، ان کا سامان ضبط کر لیا جاتا ہے، اور ان کی روزی روٹی چھین لی جاتی ہے۔ لیکن جب بات بڑی کمپنیوں اور مافیا کی آتی ہے، تو سب قوانین پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔



https://shrinkme.io/ref/108811586583795536181

یہاں ایک دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ شوگر مل کا وسیع و عریض علاقہ خالی پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود ان ٹرالرز کو عوامی سڑکوں پر کیوں کھڑا کیا جا رہا ہے؟ کیا عام شہریوں کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں؟ اگر عام دکانداروں کی تجاوزات ہٹائی جا سکتی ہیں، تو ان بڑی گاڑیوں اور مافیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟

عوامی مشکلات اور حکومت کی ذمہ داری

یہ سڑک عوام کی ملکیت ہے، کسی فیکٹری یا کمپنی کی جاگیر نہیں کہ وہ جب چاہے، اسے اپنی پارکنگ میں بدل دے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی عوامی مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، تو کیا یہ مسئلہ ان کی نظر سے اوجھل ہے؟

روزے دار، معصوم بچے، بزرگ اور عام شہری جو اس راستے سے گزرتے ہیں، انہیں روزانہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نہ ٹریفک پولیس ایکشن لیتی ہے، نہ مقامی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ علاقہ قانون سے آزاد ہے اور یہاں صرف طاقتور طبقے کا راج ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سے عوام کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے عوام سوال کر رہی ہے کہ:

  1. اگر غریبوں کے ٹھیلے اور دکانیں غیر قانونی تجاوزات ہیں، تو یہ بڑے بڑے ٹرالر کیوں نہیں؟
  2. کیا قانون صرف کمزور اور بے سہارا افراد کے لیے ہے؟
  3. کیا حکومت کی رٹ صرف غریبوں پر چلتی ہے، یا پھر مافیا کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہوگی؟
  4. ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے اور عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کب عملی اقدامات کیے جائیں گے؟

عوام کو امید ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا، تاکہ سڑک کو عوام کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔

No comments:

Post a Comment

تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ غلط کمنٹ سے گریز کریں۔ورنہ کمٹٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا