coinpayu

Thursday, April 2, 2020

سوشل میڈیا زہن سازی میں کتنا کردار ادا کر رہا ہے

حکومت سوشل میڈیا پہ قدغنیں لگانے کی تیاریاں کر رہی ہے کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ سوشل میڈیا اس وقت ذہن سازی میں مین کتنا بڑا کردار ادا کر رہا ہے خبروں اور میڈیا پہ نظر رکھنے والی اک غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق پاکستان میں اسی فیصد لوگوں کے لیے خبروں کا پلیٹ فارم سوشل میڈیا ہے 
اک عرصے سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ سوشل میڈیا مین سٹریم میڈیا کی جگہ لے لے گا اب یہ اندازہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی ہے
ملک کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے کون سی جماعت کتنا اچھی ہے کون کتنا بڑا لیڈر ہے کون سا میڈیا چینل کس طرح کا کام کر رہا ہے اس حوالے  سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز عوام کی ذہن سازی میں بہت بڑا کردار ادا کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب مین سٹریم میڈیا کے بڑے بڑے نام سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں سوشل میڈیا ویب سائیٹ فیس بک سیاسی طور پہ اتنا مضبوط ہو چکی ہے کہ یہ کئی ملکوں میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہے یہی وجہ ہے فیس بک اور انسٹا گرام کے مالک مارک زکر برگ کو دنیا کو وضاحت دینا پڑ گئی مارک زکر برگ نے امریکی کانگریس کے نمائندگان کو بریفنگ دی کہ وہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کی ذمہ داری کو کس طرح سے ادا کریں گے
الیکشن کے نتائج پہ اثر انداز ہونے کے سبب دو ہزار اٹھارہ میں فیس بک نے بشمول پاکستان ان چار ممالک جہاں الیکشن کا انعقاد ہونے والا تھا اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کی
ماضی میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو بھی فیس بک و ٹوئیٹر کی سوشل میڈیائی جماعت ہونے کے طعنے دیے جاتے رہے لیکن یہی سوشل میڈیائی جماعت اس وقت پاکستان میں حکومت کر رہی ہے چند دن قبل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو وزیر اعظم ہاؤس سے دعوت نامہ موصول ہوا جہاں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ان سے ملاقات کی یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا بھر کی مین سٹریم سوشل میڈیا کو کس قدر اہم سمجھتی ہے
اس کی خاصیت یہ ہے کہ سوشل میڈیا تک عام آدمی کی رسائی ہے بنا کسی فلٹر بنا کسی چیک کے عام آدمی اشرافیہ کی کارکردگی پہ سوال اٹھا رہا ہے سوشل میڈیا نے بڑے بڑے سکینڈل بے نقاب کیے ہیں کھیل شوبز سیاست میڈیا بیوروکریسی حتٰی کہ اسٹیبلشمنٹ بھی سوشل میڈیا کے طوفان میں بہہ چلے ہیں دنیا کو کنٹروک کرنے والوں کے لیے سوشل میڈیا درد سر بن چکا ہے اسی سوشل میڈیا نے اک عام سے چائے والے کو سٹار بنا دیا اسی سوشل میڈیا نے شامی مہاجر ایلان کردی کی موت کو دنیا بھر کا سانحہ بنا دیا اسی سوشل میڈیا کی بدولت شاپر کی جرسی بنائے دس سالہ افغان بچے کی فٹ بال سٹار اور اپنے ہیرو میسی سے ملاقات ممکن ہو پائی اسی سوشل میڈیا نے امریکہ میں بیٹھی لڑکی اور پاکستان میں بیٹھے لڑکے کو اک بنا دیا
صرف یہی نہیں سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے روزگار کا اک ذریعہ بن چکا ہے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ان پلیٹ فارمز سے پیسہ بنا رہے ہیں بڑے بڑے کارپوریٹ ادارے پروموشن کے لیے سوشل میڈیا کی طرف رخ کر رہے ہیں پروڈکٹس کی پروموشن پہ ہی موقوف نہیں اب تو فلموں اور ڈراموں کی پروموشن کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ لیا جا رہا ہے ماضی قریب میں خلیل الرحمان قمر کے ڈرامے میرے پاس تم ہو کی مثال لے لیں ڈرامے کا اک کلپ سوشل میڈیا پہ وائرل ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ڈرامہ ریٹنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دیتا ہے اس کی آخری قسط سینما میں دکھائی جاتی ہے اس کا اک کردار دانش مرتا ہے تو پورا ملک اس پہ بات کرتا ہے 
آئی ایس پی آر کا تیارکردہ ڈرامہ عہد وفا آن ائیر ہوتا ہے سات آٹھ اقساط کے بعد اک سرائیکی کردار گلزار کی اینٹری ہوتی ہے کردار گلزار کے تعارف پہ مبنی کلپ کیا وائرل ہوتا ہے ڈرامہ رائیٹر کو اس کردار کو دوبارہ لکھنا پڑ جاتا ہے تا کہ اس مقبول کردار کو آگے بڑھایا جا سکے اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا گلزار کا کردار مختصر ہونے کی وجہ سے اب تک یہ ڈرامے میں نظر بھی نہ آ رہا ہوتا
افکار علوی گوہر والہ بھکر کا اک نوجوان ہے متوسط طبقے کا اک عام سے سرائیکی شاعر لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے اس کی نظم مرشد بچے بچے تک پہنچی اور خود افکار علوی مین سٹریم میڈیا کے پرائم ٹائم کے پروگرامز تک پہنچا
اسی سوشل میڈیا نے کئی ممالک میں بغاوت کی لہر کھڑی کر دی یہی سوشل میڈیا لیہ کی اک یتیم بچی کی آواز بنا اور سی ایم پنجاب کو نہ صرف بچی کو نوکری دینا پڑی بلکہ اس سے ناانصافی پہ معافی مانگی یہی سوشل میڈیا زینب کیس میں حاکموں کو کٹہرے میں گھسیٹ لایا یہی سوشل میڈیا سانحہ ساہیوال کی حقیقت آشکار کرنے کا باعث بنا ورنہ معصوم اریبہ اور اس کے والدین دہشت گرد قرار دیے جا چکے تھے دنیا بھر میں ہزاروں لاکھوں واقعات ایسے ہیں جو مین سٹریم پہ اثر انداز ہوئے اور ان کا محرک سوشل میڈیا تھا
آج کی سیاست سوشل میڈیا کے بغیر ادھوری ہے سوشل میڈیا فرش سے عرش اور عرش سے فرش تک لا پٹخنے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا پہ کنٹرول رکھنے والے پانچ پرسنٹ طبقے کے لیے سوشل میڈیا اک ڈراؤنے خواب کا روپ دھار چکا ہے اس لیے یہ مین سٹریم طبقہ سوشل میڈیا پہ کنٹرول حاصل کرنے کا خواہاں ہے مہذب ممالک میں فریڈم آف سپیچ اک ایسا حق ہے جس پہ ڈاکہ ڈالنے کا اتھارٹیز سوچ بھی نہیں سکتیں لیکن مشرق میں حالات دگرگوں ہیں یہاں عوام کو معلومات تک رسائی اور فریڈم آف سپیچ کی حدیں مقرر کی جاتیں ہیں موجودہ سائبر اصلاحات اسی سلسلے کی اک کڑی ہیں اب دیکھنا یہ ہے پاکستانی عوام اس معاملے پہ کیا ردعمل دیتی ہے ردعمک دیتی بھی ہے یا غیر اہم سمجھ کر اسے نظرانداز کر دیتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرح ان پریڈکٹ ایبل ہے کس لمحے کیا کر بیٹھے کچھ پتہ نہیں ہوتا اگر کرنے پہ آئے تو پہاڑ جیسا ہدف آسانی سے حاصل کر لے نہ کرے تو پہاڑ گرا دو حرکت نہیں کرے گی

رضوان ظفر گورمانی

No comments:

Post a Comment

تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ غلط کمنٹ سے گریز کریں۔ورنہ کمٹٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا