coinpayu

Friday, March 7, 2025

اگر اپ بھی ان لائن پیسے کمانا چاہتے ہیں تو اج ہی جوائن کریں



 ان لائن پیسے کمائیں سے 


1️⃣ اکاؤنٹ بنائیں


https://shrinkme.io/ref/108811586583795536181


 پر جائیں اور سائن اپ کریں۔



2️⃣ لنک شارٹ کریں


کسی بھی ویب سائٹ یا ویڈیو کا لنک کاپی کریں۔


 کے URL shortener میں پیسٹ کریں اور لنک کو شارٹ کرلیں۔



3️⃣ لنک کو شیئر کریں


اپنے فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹوئٹر، انسٹاگرام، ویب سائٹ یا بلاگ پر شارٹ لنک شیئر کریں۔


زیادہ لوگ آپ کے لنک پر کلک کریں گے، تو زیادہ ارننگ ہوگی۔




4️⃣ پیسے کمائیں


جب کوئی شخص آپ کے شارٹ کیے گئے لنک پر کلک کرے گا، تو اسے کچھ سیکنڈز کے لیے ایک اشتہار دکھایا جائے گا۔


اس کے بعد وہ اصل لنک پر پہنچ جائے گا، اور آپ کو اس پر پیسے ملیں گے۔



5️⃣ پیسے نکلوائیں (Withdraw)


جب آپ کی ارننگ $5 یا اس سے زیادہ ہوجائے، تو آپ PayPal، Payoneer، Bitcoin، یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے نکال سکتے ہیں۔



کتنی ارننگ ہوسکتی ہے؟


ہر 1000 کلکس پر $2 سے $20 تک کمائی ہوسکتی ہے، جو ملک کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔


زیادہ ٹریفک والے ممالک (USA, UK, Canada) سے کلکس پر زیادہ پیسے ملتے ہیں۔



زیادہ پیسے کمانے کے ٹپس:


✅ وائرل ویڈیوز، نیوز، اور ٹرینڈنگ مواد کے لنکس شارٹ کریں۔

✅ سوشل میڈیا گروپس اور فورمز میں لنکس شیئر کریں۔

✅ یوٹیوب ویڈیوز کی ڈسکرپشن میں شارٹ لنکس دیں۔

✅ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس میں لنکس شیئر کریں۔


🔥 ابھی شروع کریں اور پیسے کمائیں!

🔗 Join Now

https://shrinkme.io/ref/108811586583795536181

مریم نواز صاحبہ! غریبوں کے بعد بااثر مافیا کے خلاف ایکشن کب ہوگا؟

 

وزیر اعلیٰ مریم نواز سے سوال: غریبوں کے بعد مافیا کے خلاف ایکشن کب؟

کوٹ ادو کے قریب سنانواں میں قائم فاطمہ کول پاور پلانٹ کے اطراف تجاوزات کی بھرمار نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روڈ کے دونوں کناروں پر بڑے بڑے ٹرالر کھڑے ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ موٹر سائیکل اور کار سواروں کے لیے سڑک سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں روزے داروں کے لیے یہ صورتحال مزید پریشانی کا باعث بن رہی ہے، مگر متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

غریبوں پر کریک ڈاؤن، مگر بااثر مافیا کو چھوٹ؟

حکومت پنجاب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ غریب ریڑھی بانوں، چھوٹے دکانداروں اور ٹھیلے لگانے والوں کو فوراً ہٹا دیا جاتا ہے، ان کا سامان ضبط کر لیا جاتا ہے، اور ان کی روزی روٹی چھین لی جاتی ہے۔ لیکن جب بات بڑی کمپنیوں اور مافیا کی آتی ہے، تو سب قوانین پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔



https://shrinkme.io/ref/108811586583795536181

یہاں ایک دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ شوگر مل کا وسیع و عریض علاقہ خالی پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود ان ٹرالرز کو عوامی سڑکوں پر کیوں کھڑا کیا جا رہا ہے؟ کیا عام شہریوں کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں؟ اگر عام دکانداروں کی تجاوزات ہٹائی جا سکتی ہیں، تو ان بڑی گاڑیوں اور مافیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟

عوامی مشکلات اور حکومت کی ذمہ داری

یہ سڑک عوام کی ملکیت ہے، کسی فیکٹری یا کمپنی کی جاگیر نہیں کہ وہ جب چاہے، اسے اپنی پارکنگ میں بدل دے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی عوامی مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، تو کیا یہ مسئلہ ان کی نظر سے اوجھل ہے؟

روزے دار، معصوم بچے، بزرگ اور عام شہری جو اس راستے سے گزرتے ہیں، انہیں روزانہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نہ ٹریفک پولیس ایکشن لیتی ہے، نہ مقامی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ علاقہ قانون سے آزاد ہے اور یہاں صرف طاقتور طبقے کا راج ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سے عوام کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے عوام سوال کر رہی ہے کہ:

  1. اگر غریبوں کے ٹھیلے اور دکانیں غیر قانونی تجاوزات ہیں، تو یہ بڑے بڑے ٹرالر کیوں نہیں؟
  2. کیا قانون صرف کمزور اور بے سہارا افراد کے لیے ہے؟
  3. کیا حکومت کی رٹ صرف غریبوں پر چلتی ہے، یا پھر مافیا کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہوگی؟
  4. ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے اور عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کب عملی اقدامات کیے جائیں گے؟

عوام کو امید ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا، تاکہ سڑک کو عوام کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔

پی ٹی ائی کے رہنما و سنیٹر عون عباس بپی پر مقدمہ درج

 

چولستان میں چنکارہ ہرن کا غیر قانونی شکار کرنے پر پی ٹی آئی کے رہنما و سنیٹر عون عباس بپی پر مقدمہ درج۔ مقدمہ تھانہ ڈراور کی حدود میں  محکمہ وائلڈلائف کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ۔ 





پولیس رپورٹ کے مطابق عون عباس بپی، جام امان اللہ، ڈاکٹر فیصل ، شمیل مرزا، سردار فہد سمیت 5 نامعلوم افراد بنا نمبر پلیٹ کے دو گاڑیوں میں سوار چولستان کے علاقہ میرن والا میں غیر قانونی شکار کر رہے تھے ، جب محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم موقع پر پہنچی تو ملزمان نے اسلحہ کے زور پر وائلڈ لائف ٹیم کو اغوا کرنے اور زبردستی گاڑیوں میں بٹھانے کی کوشش کی،  منت سماجت  کے بعد ملزمان اسلحہ لہرا کر وائلڈ لائف ٹیم کو دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔ وائلڈ لائف ٹیم کے مطابق ملزمان کی گاڑیوں میں 5 زبح شدہ چنکارہ ہرن بھی موجود تھے جنھیں غیر قانونی طور پر شکار کیا گیا تھا۔۔ پولیس تھانہ ڈیراور نے وائلڈ لائف افسران کی مدعیت میں پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔