coinpayu

Wednesday, February 19, 2025

صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو میں سی ٹی سکین مشین کا افتتاح کر دیا

 مظفرگڑھ/کوٹ ادو 

18فروری 2025( ) 



صوبائی وزیر برائے صحت خواجہ عمران نذیر نے کوٹ ادو ٹی ایچ کیو ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین کا افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ایک اور وعدے کی تکمیل ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ ویژن ہے کہ صحت کی سہولیات عوام کے گھروں کی دہلیز تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو میں سی ٹی سکین مشین کے نصب ہونے سے اب یہاں کی عوام کو ملتان نہیں جانا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ مظفرگڑھ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال اور کوٹ ادو کے ٹی ایچ کیو ہسپتال کو مزید بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ ادویات کی خریداری کا عمل شفاف طریقے سے جلد شروع کی جائیں۔ ایمرجنسی وارڈ میں مانیٹر 24 گھنٹے میں لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی ہدایت کے مطابق جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوٹ ادو ٹی ایچ کیو ہسپتال کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کا درجہ دینے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو کی گنجائش بڑھانے اور ایچ آر کو مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر منور حسین بخاری، سی ای او صحت ڈاکٹر ظفر عباس اور مقامی رہنما مسلم لیگ احمد یار ہنجرا بھی موجود تھے۔


Wednesday, February 12, 2025

کروڑ پتی فقیرنی: لاہور کی ایک دلچسپ کہانی

 کروڑ پتی فقیرنی: لاہور کی ایک دلچسپ کہانی


لاہور (ویب ڈیسک) — لاہور کی ایک خاتون جو بظاہر بھیک مانگتی نظر آتی ہے، دراصل کروڑ پتی نکلی۔ یہ خاتون ڈی ایچ اے کے ایک شاندار ڈبل اسٹوری بنگلے میں رہائش پذیر ہے اور اس کے پاس ہنڈا سوک گاڑی، آئی فون 16، اور سام سنگ گلیکسی زیڈ فولڈ موبائل جیسے قیمتی اثاثے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ دو اولڈ ایج ہوم بھی چلاتی ہے اور اس کے بچے دنیا کے سب سے مہنگے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔



یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ اس خاتون نے خود کو فقیرنی ظاہر کرکے معاشرتی نظرئیے کو چیلنج کیا ہے۔ اس کی کہانی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بعض اوقات ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ حقیقت سے کہیں مختلف ہوتا ہے۔


مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خاتون فلاحی کاموں میں دلچسپی رکھتی ہے، لیکن اس کے اس رویے پر سوالات اٹھتے ہیں کہ وہ بھیک کیوں مانگ رہی ہے، جبکہ اس کے پاس اتنی دولت ہے۔ کیا یہ ایک حکمت عملی ہے یا پھر کچھ اور؟


اس کہانی نے معاشرتی طبقاتی فرق، دولت کی تقسیم اور فلاحی کاموں کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کی حقیقت سے پردہ اُٹھنا ابھی باقی ہے، مگر یہ کہانی یقیناً ایک نیا موضوع بحث فراہم ک

رتی ہے۔